بنگلورو،20؍دسمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کسانوں کے قرضوں کی معافی کے تئیں حکومت کی پابندی کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں نے قومی بینکوں سے جو قرضے حاصل کئے ہیں اس کی معافی کے لئے اگلے سال بجٹ میں مناسب رقم مختص کی جائے گی۔
آج سورنا سودھا میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگلے چار سال کے دوران کسانوں کے قرضوں کی معافی کس نہج پر کرنی ہے اس پر وہ اعلیٰ افسروں کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور اگلے سال قومی بینکوں سے قرضوں کی معافی کے متعلق فنڈز کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کوآپریٹیو بینکوں سے قرضے معاف کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اس کو مرحلہ وارعملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ قومی بینکوں سے قرضوں کی معافی کے موقف پر بھی حکومت پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ قرضوں کی معافی کے لئے کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔اس کے مطابق ریاستی حکومت آگے کی کارروائی کرے گی۔ ریاست کے آبپاشی پراجکٹوں کے متعلق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس کا قرضوں کی معافی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ استدلال درست نہیں کہ قرضے معاف کرنے کے لئے حکومت نے آبپاشی پراجکٹوں کے فنڈز میں کٹوتی کردی ہے۔ بی جے پی اس سلسلے میں میڈیا کو گمراہ کررہی ہے۔ ریاست کاہر آبپاشی منصوبہ جاری رہے گا اور طے شدہ مدت میں اسے پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ قرضوں کی معافی کے متعلق کل ایوان میں انہوں نے بولنا شروع کیا تھالیکن بی جے پی کو ان کی باتیں سننے کا صبر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت اگر قومی بینکوں سے قرضے معاف کرنے میں تعاون کرے تو ریاستی حکومت یہ قرضے بھی فوری طور پر معاف کرنے تیار ہے۔ لیکن ریاستی بی جے پی قائدین میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ مرکزی حکومت کو باور کراسکیں کہ زرعی قرضوں کو قومی بینکوں سے معاف کرے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر یڈیورپا کا یہ بیان بچکانہ ہے کہ قومی بینک قرضوں کی معافی سے کیونکر اتفاق کرسکتی ہے۔ ریاستی حکومت کے تعلق سے بی جے پی لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ بیانوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمارسوامی نے تنبیہ کی کہ اگر بی جے پی نے یہی رویہ برقرار رکھا تو انہیں بی جے پی کے خلاف دھرنا دینا پڑسکتا ہے۔